ہر اک کے درد کو اپنا درد سمجھ لینے والے--!!
بنا لالچ کے اکھٹے بیٹھ کر کھانے والے --!!
ہر چہرہ اپنائیت سے لیے ہوئے ---!!
کبھی سو چو تو تصور میں -----!!
میں خود کو کسی کچے آنگن میں پاتی ہوں جہاں صرف مٹی ہی ہے ----!
کبھی گوبر اٹھاتی یوئی ----!!!
کبھی ننگے پاوں مٹی کے بناے چولہے پر پوچا لگاتے ہوئے ---!!
کبھی دھوائیں سے کالے ہوئے برتنوں کو دھوتے ہوئے--!!!
کبھی ہاتھ کے بنے نلکے سے پانی کچے گھڑے میں پانی بھرتے ہوئے ---!!
اور کبھی تپتی سنسان دوپہر کو درخت کے نیچے بڑی سے چارپائی پر لیٹ کر محبت کی آگ میں جلتی آنکھوں کو بند کیے محسوس کرتے ہوئے ---!!
کبھی سرد موسم میں سنسان نظر آتے سبزے کو دیکھ کر دعائیں مانگتی ہوئے --!!
کبھی تیز برستی بارش میں مسجد کا اعلان کہ پیاری آج صبح تہجدکے وقت اس فانی دنیا سے کوچ کر گئی ہے --!!
تصور کے اختتام پر ٹھنڈی سی سانس خارج کر کے یہ کہتی ہوں
اے اللہ ------!!!
بے شک عنقریب ہم سب تیری ہی طرف لوٹنے والے ہیں...

Comments
Post a Comment